درد اور برداشت کے بیس اشعار — درد کا نچوڑ۔
دل میں جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی
آنکھ سے جو بھی بہی وہ تو چھپائی نہ گئی
محبت کے افسانے لکھے ہیں مری جوانی نے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک آنسو کی کہانی ہے
یہ دردِ جوانی بھی عجب رنگ دکھاتا ہے
ہر غم میں بھی اک چاشنی سی گھلی رہتی ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
میرے پاس دینے کو صرف دو باتیں ہیں
تھوڑا سا درد اور تھوڑی سی محبت
فطرت کی ایک شے ہے جسے ہم کہیں ہیں دل
موجِ نسیمِ صبح ہے یا درد کا اثر
یہ درد ہی ہے جو اب تک سنبھالے بیٹھا ہے
نہ ہو یہ درد تو بکھرا ہوا یہ دل بھی نہیں
نہ پوچھ عالمِ بربادیِ جہانِ دل
ہر ایک گھر میں ہے اس شہر کے خرابیِ دل
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں
جنون میں ہم نے اکثر دامنِ صحرا کو چاک کیا
گریبانِ دلِ محزون کو بھی پامال کر بیٹھے
دل کی بات اب لفظوں میں نہیں تصویروں میں ہوتی ہے
مگر درد کا کوئی نشان ابھی تک نہیں بنا
لپٹتی ہے دھواں بن کے یہ آہِ دلِ زار
مرے نکلتے ہی گھر سے چراغ بجھتے ہیں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے
انہیں کی یاد میں رویا کیے ہم
بھلا بیٹھے تھے جب اپنی خبر کو
بڑھا تو درد ہی دے جائے گی یہ دل کی لگن
کوئی دیا نہ جلا رات کے اندھیرے میں
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے