Classical · 1721–1785 · دہلی – دہلی
خواجہ میر درد ایک صوفی بزرگ اور شاعر تھے، جنہیں میر اور سودا کے ساتھ اٹھارہویں صدی کی اردو غزل کے تین ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری صوفیانہ تڑپ اور روحانی عقیدت کی زبان سے معمور ہے۔
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
انہیں کی یاد میں رویا کیے ہم
بھلا بیٹھے تھے جب اپنی خبر کو