Progressive · 1905–1948 · ٹونک – لاہور
محمد داؤد خان، جو اختر شیرانی کے نام سے مشہور ہیں، اپنی نسل کے عظیم رومانوی شاعر تھے، جو ترقی پسند تحریک کے برسوں میں لکھتے رہے اگرچہ اس کی سیاست سے کبھی بندھے نہیں۔ "سلمیٰ" اور "اے دیس سے آنے والے بتا" جیسی نظموں نے جوانی کی تڑپ کو ان کا دائمی موضوع بنا دیا۔ وہ لاہور میں کم عمری میں رخصت ہوئے، ایک خالص غنائی آواز کے طور پر۔
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اک دل ہے ہمارے پاس مگر ناشاد نہ کر
وہ آئے تو ہر رات ستاروں میں ڈھل جائے
وہ بھول بھی جائے تو مگر یاد نہ جائے
محبت کے افسانے لکھے ہیں مری جوانی نے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک آنسو کی کہانی ہے
وہ چاند سی صورت مری راتوں میں اتر آئے
میں نیند سے جاگ اٹھوں تو بس اس کا خیال آئے
گل کی طرح کھلتا ہے تیرا نام مرے لب پر
اور باغِ تصور میں بہار آنے لگتی ہے
جدائی کی شامیں کٹیں تو کیسے کٹیں
تیرے بغیر تو دن بھی اندھیری رات لگے
امید کا دامن اب بھی تھامے ہوئے ہوں میں
کہ تو آئے گا کسی روز مری طرف پھر سے
یہ دردِ جوانی بھی عجب رنگ دکھاتا ہے
ہر غم میں بھی اک چاشنی سی گھلی رہتی ہے