Modern · 1882–1926 · فیض آباد – رائے بریلی
برج نارائن چکبست لکھنؤ کے وکیل اور بیسویں صدی کے آغاز کے بہترین اردو شاعروں میں سے تھے۔ لکھنؤ کی روایت میں لکھنے والے ایک کشمیری ہندو، وہ حب الوطنی، فطرت اور غور و فکر کی نظموں کے لیے — خاص طور پر زندگی اور موت پر اپنی مشہور سطروں کے لیے — یاد کیے جاتے ہیں، اور رائے بریلی کے قریب ایک ریل حادثے میں کم عمری میں رخصت ہوئے۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
یہ سمجھتے تھے کہ پاسِ وفا کرتے ہیں
لو وہ بھی کہہ دیا کہ ہم جفا کرتے ہیں
فطرت کی ایک شے ہے جسے ہم کہیں ہیں دل
موجِ نسیمِ صبح ہے یا درد کا اثر
امیدِ سحر لے کے چلا ہوں شبِ غم میں
منزل تو نہیں ہے مگر ایک راہ تو نکلی
وطن کی راہ میں جو سر کٹائے جاتے ہیں
انہی کے نام سے یہ باغ مسکراتے ہیں
رات کا چاند بھی تنہا ہے مرے جیسا ہی
آسمانوں میں بھی ہوگا کوئی جدائی کا اثر
گلِ امید کھلا ہے دلِ ویران میں
کوئی آئے نہ آئے مگر بہار تو ہے