Classical · 1776–1838 · فیض آباد – لکھنؤ
شیخ امام بخش ناسخ، آتش کے ساتھ، لکھنؤ دبستان کے بانی تھے۔ غزل کی زبان کو پاکیزہ اور معیاری بنانے کے لیے مشہور، وہ ایک باوقار، مرصع اسلوب کے حامی تھے اور انہوں نے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ تیار کیا۔ ان کی اصلاحات نے انیسویں صدی کی اردو شاعری کی آواز کو تشکیل دیا۔
گل کو محبوب میں سمجھتا ہوں
اس کو محبوب کی ادا کہتا ہوں
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
شبِ فراق کی تنہائیوں میں یاد آیا
وہ ایک شخص جو بے تاب کر گیا تھا کبھی
نہ پوچھ عالمِ بربادیِ جہانِ دل
ہر ایک گھر میں ہے اس شہر کے خرابیِ دل
محفل میں بار بار ادھر دیکھتے ہیں وہ
یہ میرا دل ہے یا کوئی جادو نظر میں ہے
وفا کے باب میں وہ بے وفا نکلا
جسے میں آشنا سمجھا وہ نا آشنا نکلا
زندگی اپنی اسی شوق میں گزری ناسخ
آج وہ آئے کہ کل آئے کہ پرسوں آئے
امیدِ وصل نے دم بھر نہ چین لینے دیا
گیا وہ وقت کہ روتا تھا ہجرِ یار میں میں