Modern · 1879–1941 · بدایوں – حیدرآباد
شوکت علی خان، جو فانی بدایونی کے نام سے مشہور ہیں، نے اداسی کو ہی اپنا کل موضوع بنایا۔ جہاں دوسرے غم کو گزرتے موسم کی طرح لکھتے تھے، فانی اسی کے اندر بسے رہے، اور ان کی غزلیں مایوسی کو ایک عجیب، دائمی حسن میں بدل دیتی ہیں۔ آخری برس انہوں نے حیدرآباد میں گزارے، جدید اردو کے سب سے خالص غم کے شاعر کے طور پر۔
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی
میں خود بھی تو نہیں اپنا خریدار زندگی
فانی دنیا میں تمہارا کوئی ہمدم ہی نہیں
کس سے کہیے کہ تری یاد بھلا دی ہے مجھے
یہ درد ہی ہے جو اب تک سنبھالے بیٹھا ہے
نہ ہو یہ درد تو بکھرا ہوا یہ دل بھی نہیں
تنہائی کی ایک رات تھی اور میں تھا فانی
صدیوں میں گزر پائی وہ لمحوں کی کہانی
موت مانگی تھی الٰہی یہ تو کیا بھیج دیا
زندگی بھیج دی پروانے کے ساتھ آ کے یہاں
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی