Classical · 1756–1817 · مرشد آباد – لکھنؤ
انشا اللہ خان، جو انشا کے نام سے لکھتے تھے، دہلی اور لکھنؤ کے درباروں سے وابستہ ایک شاعر، ماہرِ لسانیات اور حاضر جواب شخص تھے۔ زبان کے ساتھ اپنے دلچسپ تجربوں کے لیے مشہور، انہوں نے غزل، طنز اور نثر میں نادر صلاحیت دکھائی۔
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں
نہیں ہے آج جو قدرِ سخن تو کچھ غم نہیں
سنا ہے آتے ہیں دن یادِ رفتگاں کے بعد
جنون میں ہم نے اکثر دامنِ صحرا کو چاک کیا
گریبانِ دلِ محزون کو بھی پامال کر بیٹھے