Classical · 1877–1938 · سیالکوٹ – لاہور
سر محمد اقبال، جو علامہ اقبال کے نام سے مشہور ہیں، ایک شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری جدید دور کی سب سے بااثر تخلیقات میں شمار ہوتی ہے۔ "خودی" کے ان کے تصور نے ادب اور سیاسی فکر دونوں کو متاثر کیا۔
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو
مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بہ خود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے
مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب
نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے
یہ بندگی خدائی وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ
راز حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ
مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا
تھم اے رہ رو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا
دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اک مرد تن آساں تھا تن آسانوں کے کام آیا
اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
پیر حرم نے کہا سن کے میری رویداد
پختہ ہے تیری فغاں اب نہ اسے دل میں تھام
گرچہ ہے افشائے راز اہل نظر کی فغاں
ہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رندانہ عام
حلقۂ صوفی میں ذکر بے نم و بے سوز و ساز
میں بھی رہا تشنہ کام تو بھی رہا تشنہ کام
عشق تری انتہا عشق مری انتہا
تو بھی ابھی نا تمام میں بھی ابھی نا تمام