Classical · 1778–1847 · فیض آباد – لکھنؤ
خواجہ حیدر علی آتش، ناسخ کے ساتھ، اردو غزل کے لکھنؤ دبستان کے بانی تھے۔ تقریباً درویشانہ سادگی سے رہتے ہوئے، انہوں نے اس دبستان کی صنعت پسندی کو سادگی اور جذبے کی قوت سے توازن بخشا۔ خودداری اور قناعت پر ان کے اشعار اردو میں سب سے زیادہ نقل کیے جاتے ہیں۔
ناز و انداز و ادا میں ہے ترقی دہ چند
فتنہ طفلی تھی قیامت ہے جوانی تیری
کون سے غلہ کا دانہ تو اے دانۂ خال
ہم نے ارزانی میں بھی پائی گرانی تیری
گرم جوشی سے جلایا کرے کشف و خرمن
برق ہو سکتی نہیں شوخی میں ثانی تیری
جان کی طرح سے رکھتا ہے عزیز اے گل رو
داغ دل لالہ نے سمجھا ہے نشانی تیری
مصرع تیغ ہے ہر مصرع موزوں آتشؔ
دیکھ لی یار مری سیف زبانی تیری
جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
اے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا
کوئی اندھا ہی تجھے ماہ کہے اے خورشید
فرق ہوتا نہیں انسان سے دن رات میں کیا
یار نے وعدۂ فردائے قیامت تو کیا
شک ہے اے نالۂ دل تیری کرامات میں کیا
کوئی بت خانے کو جاتا ہے کوئی کعبہ کو
پھر رہے گبر و مسلماں ہیں تری گھات میں کیا
ایک مدت سے ہوں سائل ترے دروازے پر
بوسہ یا گالی ملے گا مجھے خیرات میں کیا
ایسی اونچی بھی تو دیوار نہیں گھر کی ترے
رات اندھیری کوئی آوے گی نہ برسات میں کیا
دو گھڑی کی جو ملاقات تھی وہ بھی موقوف
ایسا پڑتا تھا خلل یار کی اوقات میں کیا
پڑھ کے خط اور بھی مایوس ہوئے وصل سے ہم
یار نے بھیجا سفر سے ہمیں سوغات میں کیا
آتش مست جو مل جائے تو پوچھوں اس سے
تو نے کیفیت اٹھائی ہے خرابات میں کیا
آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم
پھیریں گے اپنی طرف روئے دل آرام کو ہم
شام سے صبح تلک دور شراب آخر ہے
روتے ہیں دیکھ کے خنداں دہن جام کو ہم
یاد رکھنے کی جگہ ہے یہ طلسم حیرت
صبح کو دیکھتے ہی بھول گئے شام کو ہم
آنکھ وہ فتنۂ دوراں کسے دکھلاتا ہے
شعبدہ جانتے ہیں گردش ایام کو ہم
فتنہ انگیزی بھی چھپتی ہے کہیں پردے میں
سنتے ہیں گبر و مسلماں سے ترے نام کو ہم
خون قاصد تو وہ سفاک سمجھتا ہے حلال
کسی غماز سے بھجوائیں گے پیغام کو ہم