جنوبی ایشیائی شاعری کا ایک زندہ ذخیرہ — دوہا سے غزل تک، میر سے مہادیوی تک۔
راہ
راستہ، سبیل
Classical · 1797–1869
مغلیہ دور کے آخری عہد کے عظیم اردو اور فارسی شاعر، اپنی غزلوں کے لیے مشہور۔
مزید پڑھیںاِس ہفتے ذخیرے میں شامل ہونے والے اشعار۔
وہ شاعر جنہوں نے ہماری آج کی شاعری کو شکل دی۔
Classical · 1797–1869
مغلیہ دور کے آخری عہد کے عظیم اردو اور فارسی شاعر، اپنی غزلوں کے لیے مشہور۔
مزید پڑھیںعشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
رات رکی ہے آن کر زرد سفید گھاس پر
لاکھ سخن ہے درمیاں کس سے کسے جدا کروں
شاخ ہلی تو ڈر گیا دھوپ کھلی تو مر گیا
کاش کبھی تو جیتے جی صبح کا سامنا کروں
پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئے
نہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئے
کہ یہ تو رکھتا پریشان ہی مجھے شب بھر
میں جاگ اٹھا ہوں ترے خواب سے گزرتے ہوئے
میں اپنے دل کے اندھیروں کو یاد رکھتا ہوں
ترے بدن کی تب و تاب سے گزرتے ہوئے
ہوائے خوف خزاں میں لرزتا رہتا ہوں
کسی بھی وادئ شاداب سے گزرتے ہوئے
Classical · 1877–1938
شاعر و فلسفی، جن کی اردو اور فارسی شاعری نے روحانیت کو خودی کے تصور سے جوڑا۔
مزید پڑھیںProgressive · 1911–1984
بیسویں صدی کے سب سے بڑے ترقی پسند اردو شاعر، جن کے کلام میں عشق اور انقلاب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
مزید پڑھیںProgressive · 1931–2008
جدید اردو غزل کے استاد، جن کی رومانی اور باغی شاعری نے انہیں اپنے دور کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا شاعر بنایا۔
مزید پڑھیں