Meeras
PoetsSherGhazalsNazmsTagsCollections
Sign in
Meeras

اردو اور ہندی شاعری کا زندہ ذخیرہ — مفت، کھلا، تین رسم الخط میں۔

تلاش
شعرااشعارغزلیںنظمیںکیفیات اور موضوعاتٹاپ 20مجموعے
تعارف
میراث کا تعارفلغتAPI دستاویزات
قانونی
رابطہپرائیویسی پالیسیشرائطِ استعمال
© 2026 میراث · ایک کھلا ذخیرہ

شعر

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مرزا غالب

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

مرزا غالب

عشق نے غالب نکمّا کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

مرزا غالب

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

مرزا غالب

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

مرزا غالب

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

مرزا غالب

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

مرزا غالب

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

مرزا غالب

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

مرزا غالب

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

مرزا غالب

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

مرزا غالب

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

مرزا غالب

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

مرزا غالب

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

مرزا غالب

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

مرزا غالب

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

مرزا غالب

درد منت کشِ دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

مرزا غالب

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری وحشت تری شہرت ہی سہی

مرزا غالب

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

علامہ اقبال

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

علامہ اقبال