اشتراکيت
جو عالم ايجاد ميں ہے صاحب ايجاد
جس کے پرتو سے منور رہي تيري شب دوش
آگ اس کي پھونک ديتي ہے برنا و پير کو
تميز خار و گل سے آشکارا
دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے
ضمير مغرب ہے تاجرانہ، ضمير مشرق ہے راہبانہ