ہنروران ہند
عشق طينت ميں فرومايہ نہيں مثل ہوس
بے جرات رندانہ ہر عشق ہے روباہي
مسعود مرحوم
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
شمع و پروانہ
شمع
دل
بلال
انوکھي وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں
ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
پیا م
سوامي رام تير تھ
طلبہء علي گڑھ کالج کے نام
حسن و عشق
ــــــــ کي گود ميں بلي ديکھ کر