دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
دل سے جو بات
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
ایک درد ہے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
تحفہِ درد
دل تھام کے
دلِ بیمار
آرام نہیں آیا
گل پھینکے ہیں
تیرے بغیر
تمہارے خط میں نیا ایک سلام
لے چلا جان مری
اور کچھ نہیں
نہیں ہے
نقش فریادی
آہ کو چاہیے
شب ہجر
شبِ فراق