Classical · 1797–1869 · آگرہ – دہلی
مرزا اسد اللہ بیگ خان، جو غالب کے نام سے مشہور ہیں، اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ آگرہ میں پیدا ہوئے اور زیادہ تر زندگی دہلی میں گزاری، اردو اور فارسی دونوں میں لکھا۔ ان کی غزلیں آج بھی پورے برصغیر میں پڑھی اور گائی جاتی ہیں۔
بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادی
شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاۓ خارا ہے
تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دل
بہ باغ رنگ ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
ودیعت خانۂ بیداد کاوش ہاۓ مژگاں ہوں
نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
اسدؔ زندانی تاثیر الفت ہاۓ خوباں ہوں
خم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں
جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
سویدا تا بلب زنجیریٔ دود سپند آیا
فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
خرام ناز برق خرمن سعیٔ سپند آیا
طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
ہے صریر خامہ ریزش ہاۓ استقبال ناز
نامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے
واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
یاں شعلۂ چراغ ہے برگ حنا مجھے
پرواز ہا نیاز تماشائے حسن دوست
بال کشادہ ہے نگۂ آشنا مجھے
نظارہ دیگر و دل خونیں نفس دگر
آئینہ دیکھ جوہر برگ حنا نہ مانگ
اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
لغزش مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔ
آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
حسن افسردہ دلی ہا رنگیں
شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
کیجے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک
ہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے