Classical · 1797–1869 · آگرہ – دہلی
مرزا اسد اللہ بیگ خان، جو غالب کے نام سے مشہور ہیں، اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ آگرہ میں پیدا ہوئے اور زیادہ تر زندگی دہلی میں گزاری، اردو اور فارسی دونوں میں لکھا۔ ان کی غزلیں آج بھی پورے برصغیر میں پڑھی اور گائی جاتی ہیں۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی