Progressive · 1911–1984 · سیالکوٹ – لاہور
فیض احمد فیض سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور ترقی پسند تحریک کی سب سے بلند آواز بنے۔ اپنی سیاست کی وجہ سے پاکستان میں دو بار قید ہوئے۔ "مجھ سے پہلی سی محبت" سے "ہم دیکھیں گے" تک انہوں نے صدی کی سب سے عزیز نظمیں لکھیں۔ ان کا کلام غزل کی کلاسیکی زبان کو جدوجہد اور امید کی زبان بناتا ہے۔
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے
فیضؔ اوج خیال سے ہم نے
آسماں سندھ کی زمیں کی ہے
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدو کی ہے
صف زاہداں ہے تو بے یقیں صف مے کشاں ہے تو بے طلب
نہ وہ صبح ورد و وضو کی ہے نہ وہ شام جام و سبو کی ہے
نہ یہ غم نیا نہ ستم نیا کہ تری جفا کا گلا کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب یہ کسک تو دل میں کبھو کی ہے
کف باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن میں نمود میرے لہو کی ہے
نہیں خوف روز سیہ ہمیں کہ ہے فیضؔ ظرف نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن جو لگن اس آئینہ رو کی ہے
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی
آشوب نظر سے کی ہم نے چمن آرائی
جو شے بھی نظر آئی گل رنگ نظر آئی
امید تلطف میں رنجیدہ رہے دونوں
تو اور تری محفل میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے انجان نہ بن سکیے
یوں ٹوٹ گئی دل میں شمشیر شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہ دل ہے
کیا رکھا ہے مقتل میں اے چشم تماشائی
یاد غزال چشماں ذکر سمن عذاراں
جب چاہا کر لیا ہے کنج قفس بہاراں
آنکھوں میں درد مندی ہونٹوں پہ عذر خواہی
جانانہ وار آئی شام فراق یاراں
ناموس جان و دل کی بازی لگی تھی ورنہ
آساں نہ تھی کچھ ایسی راہ وفا شعاراں