Contemporary · اوکاڑہ
اوکاڑہ کے ظفر اقبال نے "آبِ رواں" (1962) سے نئی غزل کا اعلان کیا اور تب سے اسے بے چین رکھا ہے — گڑھے ہوئے لفظ، توڑے ہوئے محاورے، اور ایک طنزیہ غیر رومانی تیور جس نے روایت پسندوں کو ناراض اور نئی نسل کو تیز کیا۔ پیشے سے وکیل اور دہائیوں سے کالم نگار، وہ سب سے زرخیز اور سب سے زیادہ بحث میں رہنے والے زندہ غزل گو ہیں۔
یہ جو رواں ہیں چار سو اتنے دھوئیں کے آدمی
کس لیے چوب سبز کو آگ سے آشنا کروں
قید کرے تو آپ ہے قید سہے تو آپ ہے
میں کسے روکتا پھروں اور کسے رہا کروں
رات رکی ہے آن کر زرد سفید گھاس پر
لاکھ سخن ہے درمیاں کس سے کسے جدا کروں
شاخ ہلی تو ڈر گیا دھوپ کھلی تو مر گیا
کاش کبھی تو جیتے جی صبح کا سامنا کروں
پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئے
نہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئے
کہ یہ تو رکھتا پریشان ہی مجھے شب بھر
میں جاگ اٹھا ہوں ترے خواب سے گزرتے ہوئے
میں اپنے دل کے اندھیروں کو یاد رکھتا ہوں
ترے بدن کی تب و تاب سے گزرتے ہوئے
ہوائے خوف خزاں میں لرزتا رہتا ہوں
کسی بھی وادئ شاداب سے گزرتے ہوئے
مجھے جو ملتی نہیں دشمنوں کی خیر خبر
تو پوچھ لیتا ہوں احباب سے گزرتے ہوئے
زمیں پہ دیکھتا ہوں آب میں گلاب رواں
اور آسمان پہ سرخاب سے گزرتے ہوئے
میں چھوڑ آیا ہوں پیچھے ہزارہا مینڈک
سخن سرائی کے تالاب سے گزرتے ہوئے
مجھے تو ایک بہانہ ہی چاہیئے تھا فقط
کہ ڈوب جاؤں گا پایاب سے گزرتے ہوئے
کہاں چلی گئیں کرکے یہ توڑ پھوڑ ظفرؔ
وہ بجلیاں مرے اعصاب سے گزرتے ہوئے
اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والے
جسے غبار سمجھتے تھے کارواں والے
میں اپنی دھن میں یہاں آندھیاں اٹھاتا ہوں
مگر کہاں وہ مزے خاک آشیاں والے
مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا
مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے
مرے سراب تمنا پہ رشک تھا جن کو
بنے ہیں آج وہی بحر بیکراں والے
میں نالہ ہوں مجھے اپنے لبوں سے دور نہ رکھ
مجھی سے زندہ ہے تو میرے جسم و جاں والے
یہ مشت خاک ظفرؔ میرا پیرہن ہی تو ہے
مجھے زمیں سے ڈرائیں نہ کہکشاں والے
یوں تو ہے زیر نظر ہر ماجرا دیکھا ہوا
پھر نہیں دیکھا ہے وہ رنگ ہوا دیکھا ہوا