یہی ہے زندگی تو زندگی سے کون ڈرتا ہے
مگر کیا کیجیے غمِ زندگی تو بس یہی ہے
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا