Modern · 1884–1956 · عظیم آباد، پٹنہ – لکھنؤ
مرزا واجد حسین، جو یگانہ چنگیزی کے نام سے مشہور ہیں، جدید اردو کی سب سے خود مختار اور جنگجو آوازوں میں سے تھے۔ غالب کے سائے میں جینے سے انکار کرتے ہوئے، انہوں نے ایک مختصر، پر اعتماد محاورہ اور لکھنؤ میں تنازعے کا تاحیات ذوق پروان چڑھایا۔ اس بغاوت کے نیچے خودی اور ایمان پر گہرا غور و فکر ہے۔
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنا تھا یگانہ مگر بنا نہ گیا
عشق آزاد ہے ہندو نہ مسلمان ہے عشق
آپ ہی دھرم ہے اور آپ ہی ایمان ہے عشق
یہی ہے زندگی تو زندگی سے کون ڈرتا ہے
مگر کیا کیجیے غمِ زندگی تو بس یہی ہے
دل کو سکونِ زیست نہ چینِ حیات ہے
وحشت ہی وحشت ایک تاریکیِ حیات ہے
کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
آتی ہے آج تک مری پلکوں پہ ایک حیا
انصاف ہے خدا کی عدالت خدا کی ہے
مجرم ہوں میں مگر دلِ مجرم خدا کی ہے
خودی کو جس نے پہچانا اسے جہان نہ ملا
مگر جہان کو جو پایا اسے خدا نہ ملا
رات بھر جاگتے تاروں سے شکایت کی ہے
آج پھر ہجر کی ایک رات شکایت کی ہے