کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
آتی ہے آج تک مری پلکوں پہ ایک حیا
پس منظر
شاعر کے بارے میں
لکھنؤ کے تیکھے بت شکن، جنہوں نے اپنی آواز کو غالب کے سائے کے سامنے کھڑا کیا۔
Responses
No comments yet. Be the first to respond.