میں آپ اپنے آپ سے ہی آشنا نہ ہوا
ساری عمر بیت گئی پر پتا نہ ہوا
دنیا کے ہر کو میں پہچانتا رہا
لیکن کوئی بھی میرے لیے رہنما نہ ہوا
میں نے تو کو ہی اپنا دین مان لیا
اس راہ میں مگر کوئی بھی ہم نوا نہ ہوا
ہر بت کدے میں جا کے میں سجدے کیے کیے
لیکن میرے خدا کا کبھی سامنا نہ ہوا
یگانہ اس جہان میں جو سچ بول میں دیا
ہر شخص اس کے حق میں کبھی بھی روا نہ ہوا
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنا تھا یگانہ مگر بنا نہ گیا
عشق آزاد ہے ہندو نہ مسلمان ہے عشق
آپ ہی دھرم ہے اور آپ ہی ایمان ہے عشق
یہی ہے زندگی تو زندگی سے کون ڈرتا ہے
مگر کیا کیجیے غمِ زندگی تو بس یہی ہے
دل کو سکونِ زیست نہ چینِ حیات ہے
وحشت ہی وحشت ایک تاریکیِ حیات ہے
کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
آتی ہے آج تک مری پلکوں پہ ایک حیا
انصاف ہے خدا کی عدالت خدا کی ہے
مجرم ہوں میں مگر دلِ مجرم خدا کی ہے