ایک ہی نقش ہے جتنا بھی جہاں رہ جائے
اڑتی پھرے ہر سو کہ دھواں رہ جائے
پس منظر
شاعر کے بارے میں
جدید غزل کے بے چین تجربہ کار، چھ دہائیوں سے اس کی زبان اور قواعد کو نئے سانچوں میں ڈھالتے ہوئے۔
مزید پڑھیںResponses
No comments yet. Be the first to respond.