پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ کچھ تو ادھر بھی
پس منظر
شاعر کے بارے میں
اٹھارہویں صدی کے قصیدہ اور ہجو کے استاد، کلاسیکی اردو شاعری کے ستون۔
مزید پڑھیںResponses
No comments yet. Be the first to respond.
آ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی
کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے