Classical · 1713–1781 · دہلی – لکھنؤ
مرزا محمد رفیع، جو سودا کے نام سے مشہور ہیں، اٹھارہویں صدی کے شاعر تھے، جنہیں ابتدائی اردو غزل کے تین ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ خاص طور پر قصیدہ اور ہجو کے استاد کے طور پر مشہور تھے۔
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
فکرِ معاش عشقِ بتاں یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
گلشن میں بند قفس میں چمن کی یاد آتی ہے
وہ دن جو گزرے تھے آزادی میں بہت یاد آتے ہیں
عشق نے ظالم تجھے کس راہ پر ڈالا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجابِ حسن میں چھپتے ہیں راز کیا کیا
سحر ہونے کو ہے اے شمعِ مزار
اب تو رو لے کہ یہ موقع نہ ملے گا
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں