Modern · 1880–1951 · آگرہ – کراچی
عاشق حسین صدیقی، جو سیماب اکبرآبادی کے نام سے مشہور ہیں، غیر معمولی طور پر کثیر التصانیف شاعر، مترجم اور استاد تھے۔ داغ کے سلسلے کے شاگرد، انہوں نے درجنوں کتابیں لکھیں، قرآن کو اردو نظم میں منتقل کیا، اور بہت سے نوجوان شاعروں کو تربیت دی۔ ان کی غزلیں پرانے استادوں کی صیقل برقرار رکھتی ہیں اور نئی صدی سے بات کرتی ہیں۔
اس نے جس دم مجھے دنیا سے رخصت کر دیا
مرے ہونٹوں پر تغافل کا تبسم آ گیا
دردِ دل پاسِ وفا شوقِ فنا کچھ نہ رہا
جو تیرا تھا مرے دل میں وہ آج کچھ نہ رہا
زندگی ایک سفر ہے سہانا
یہاں کل کیا ہو کس نے جانا
رات کی تنہائیوں میں ایک صدا آتی رہی
کوئی آہٹ تھی کہ دل کی دھڑکنیں تھیں رات بھر
ناامیدیِ دل میں بھی کوئی آس تو رکھنا
اس شب کے مقدر میں سحر بھی تو لکھی ہے
محبت کی کہانی تم بھی سن لو
جدائی کے فسانے ہم بھی کہہ لیں
سخن کی آبرو رکھنا اسی کا نام ہے سیماب
کہ لفظوں میں اتر آئے دلِ بے تاب کا عالم
غمِ جہان ہو یا غمِ جاناں ہو کیا کریں
ہر غم کے ساتھ جینے کا سامان ہو گیا