Modern · 1919–2001 · ہری پور – لاہور
اورنگزیب خان نے قتیل شفائی تخلص اپنایا اور غزل کو عوامی فن بنایا — بیس سے زیادہ مجموعے، پاکستان اور ہندوستان کی ہزاروں فلمی دھنیں، اور مہدی حسن، جگجیت سنگھ، غلام علی کی گائی سطریں۔ ان کی شاعری صاف گوئی، کسک اور موسیقی کو عزیز رکھتی ہے — سننے کے لیے لکھی گئی شاعری۔
مجھ کو ڈرا رہی تھی زمانے کی ہم سری
دیکھا تو اپنے قد کے برابر بھی میں ہی تھا
آئینہ دیکھنے پہ جو نادم ہوا قتیلؔ
ملک ضمیر کا وہ سکندر بھی میں ہی تھا
حالات کی بھیگی رات بھی ہے جذبات کا تیز الاؤ بھی
میں کون سی آگ میں جل جاؤں اے نکتہ ورو سمجھاؤ بھی
ہر چند نظر نے جھیلے ہیں ہر بار سنہرے گھاؤ بھی
ہم آج بھی دھوکہ کھا لیں گے تم بھیس بدل کر آؤ بھی
گرداب کے خونیں حلقوں سے جب کھیل چکی ہے ناؤ بھی
پتوار بدلنا کیا معنی؟ ملاحوں کو سمجھاؤ بھی
بے کیف جھکولے کانٹوں کو شاداب تو کیا کر پائیں گے
جو پھول پڑے ہیں راہوں میں ان پھولوں کو مہکاؤ بھی
ہم سے تو جفاؤں کے شکوے تم ہنس کر چھین بھی سکتے ہو
ہم دل کو پشیماں کر لیں گے تم پیار سے آنکھ جھکاؤ بھی
گل رنگ چراغوں کی لو سے تاریک اجالے پھوٹ بہے
ہر طاق میں گھور اندھیرا ہے اس رنگ محل کو ڈھاؤ بھی
شاید مرے بدن کی رسوائی چاہتا ہے
دروازہ میرے گھر کا بینائی چاہتا ہے
اوقات ضبط اس کو اے چشم تر بتا دے
یہ دل سمندروں کی گہرائی چاہتا ہے
شہروں میں وہ گھٹن ہے اس دور میں کہ انساں
گمنام جنگلوں کی پروائی چاہتا ہے
کچھ زلزلے سمو کر زنجیر کی کھنک میں
اک رقص والہانہ سودائی چاہتا ہے
کچھ اس لیے بھی اپنے چرچے ہیں شہر بھر میں
اک پارسا ہماری رسوائی چاہتا ہے
ہر شخص کی جبیں پر کرتے ہیں رقص تارے
ہر شخص زندگی کی رعنائی چاہتا ہے
اب چھوڑ ساتھ میرا اے یاد نوجوانی
اس عمر کا مسافر تنہائی چاہتا ہے
میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے
تہہ میں جو رہ گئے وہ صدف بھی نکالئے
طغیانیوں کا ہاتھ سمندر میں ڈالیے
اپنی حدوں میں رہئے کہ رہ جائے آبرو
اوپر جو دیکھنا ہے تو پگڑی سنبھالیے
خوشبو تو مدتوں کی زمیں دوز ہو چکی
اب صرف پتیوں کو ہوا میں اچھالیے
صدیوں کا فرق پڑتا ہے لمحوں کے پھیر میں
جو غم ہے آج کا اسے کل پر نہ ٹالیے