یہ جو کبھی گلزار تھا اُجڑ گیا
ہر بام و در پہ کا سایہ پڑ گیا
بازارِ حُسن و عشق کی رونق نہ رہی
ہر راہِ آرزو میں غبار بکھر گیا
سنے تھے نغمے یہاں کبھی شادمانی کے
اب ہر گلی میں شورِ عزا اُتر گیا
کہے ہے سودا یہ درد سب کے نصیب میں
جو دل تھا آباد وہی ویران کر گیا
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
فکرِ معاش عشقِ بتاں یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
گلشن میں بند قفس میں چمن کی یاد آتی ہے
وہ دن جو گزرے تھے آزادی میں بہت یاد آتے ہیں
عشق نے ظالم تجھے کس راہ پر ڈالا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجابِ حسن میں چھپتے ہیں راز کیا کیا