کی لگی کا کوئی بھی درماں نہیں ہے
اس کی دنیا میں کوئی سامان نہیں ہے
ہر سمت اندھیرا ہے مگر دل میں دیا ہے
اس راہِ محبت میں کوئی ویران نہیں ہے
وہ آئے نہ آئے مگر امید تو قائم
اس دل میں ابھی تک کوئی نقصان نہیں ہے
آتش جو ملا صبر سے سب اس کو سنبھالا
دنیا کی کسی شے کا کوئی ارمان نہیں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ناز و انداز و ادا میں ہے ترقی دہ چند
فتنہ طفلی تھی قیامت ہے جوانی تیری
کون سے غلہ کا دانہ تو اے دانۂ خال
ہم نے ارزانی میں بھی پائی گرانی تیری
گرم جوشی سے جلایا کرے کشف و خرمن
برق ہو سکتی نہیں شوخی میں ثانی تیری
جان کی طرح سے رکھتا ہے عزیز اے گل رو
داغ دل لالہ نے سمجھا ہے نشانی تیری
مصرع تیغ ہے ہر مصرع موزوں آتشؔ
دیکھ لی یار مری سیف زبانی تیری
جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
اے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا