جب ہی سے نکلا تو لب تک نہ آئی دل لگی
جب ہی سے نکلا تو لب تک نہ آئی دل لگی
اُس کی نگاہِ ناز نے سب کچھ بنایا دل لگی
دنیا کا سارا کاروبار ہو گیا دل لگی
ہم نے تو اپنا آپ ہی سودا میں کھو دیا
وہ کہہ رہے تھے حُسن کا کہنا تھا دل لگی
اب کس کو اہتمامِ جنوں کا خیال ہے
عالم میں ایک تیرا تصور تھا دل لگی
سودا نہ کر نگاہ سے دلبر کی دل لگی
یہ چارہ سازِ جان کے بہانے ہیں دل لگی
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
فکرِ معاش عشقِ بتاں یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
گلشن میں بند قفس میں چمن کی یاد آتی ہے
وہ دن جو گزرے تھے آزادی میں بہت یاد آتے ہیں
عشق نے ظالم تجھے کس راہ پر ڈالا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجابِ حسن میں چھپتے ہیں راز کیا کیا