وہ بیس اشعار جن پر اردو شاعری عشق کی بات کرتے ہوئے بار بار لوٹتی ہے۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اک دل ہے ہمارے پاس مگر ناشاد نہ کر
وہ چاند سی صورت مری راتوں میں اتر آئے
میں نیند سے جاگ اٹھوں تو بس اس کا خیال آئے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
خسرو دریا پریم کا، الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ
تن مورا من پی کا دونوں بھئے ایک رنگ
گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس
زحالِ مسکیں مکن تغافل، دُرائے نینا بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
اپنی چھب بنائے کے جو میں پی کے پاس گئی
جب چھب دیکھی پی کی تو اپنی بھول گئی
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی
آج رنگ ہے اے ماں رنگ ہے ری
مورے محبوب کے گھر رنگ ہے ری
یہ عشق یہ جنون یہ ہوش یہ خرد
سب تیری راہ کے غبار ہیں میرے خدا
ہے آج وہی جلوۂ حسنِ ازل مگر
اب دیکھنے کو آنکھ نہیں بے نقاب ہے
فنا کے بعد بھی باقی رہے گا نام میرا
کہ عشقِ یار میں گزرا ہے ہر مقام میرا
گلِ تر بھیجنا مجھ کو کہ تیری یاد رہے
اس چمن میں مری بلبل کی بھی فریاد رہے