کھلتا ہوا باغ — موسم کے بدلنے کے اشعار۔
سال کی پہلی گرم صبح کے لیے۔
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
باہر نکل کے دیدۂ حیراں کے چار سو
عالم ہے حسنِ یار کے جلوے میں غرق کیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
گل کو محبوب میں سمجھتا ہوں
اس کو محبوب کی ادا کہتا ہوں
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
یہ عشق یہ جنون یہ ہوش یہ خرد
سب تیری راہ کے غبار ہیں میرے خدا
دلِ بے تاب کو منزل کا پتا مل جائے
اس اندھیری سی ڈگر میں کوئی دیا مل جائے
ہے آج وہی جلوۂ حسنِ ازل مگر
اب دیکھنے کو آنکھ نہیں بے نقاب ہے