یہ نہ تھی ہماری قسمت
کبھی اے حقیقتِ منتظر
روز دکھلاتے ہو دامن تر
کون ہے یہ
آس رہی
تیرے بغیر
غضب کیا تیرے وعدے پہ
عذر آنے میں بھی ہے
آہ کو چاہیے
شبِ تنہائی
انتظار کی رات
انتظار