Classical · 1789–1854 · دہلی – دہلی
شیخ محمد ابراہیم ذوق دہلی کے مغل دربار کے ملک الشعرا اور آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔ اپنے زمانے میں غالب کے مشہور حریف، ان کی شستہ غزلیں دہلی کے کلاسیکی اسلوب کی نمائندہ تھیں۔
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم
ذوق جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو میخانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے