Modern · 1853–1934 · خیرآباد – خیرآباد
خیرآباد کی علمی وراثت کے وارث ریاض خیرآبادی نے مے، ساقی اور مے خانے کے مضمون — خمریات — کو عمر بھر کا فن بنایا، جبکہ مشہور ہے کہ انہوں نے خود کبھی مے نہیں پی۔ ان کی رواں، شوخ غزلوں نے لکھنوی کلاسیکی آب و تاب کو بیسویں صدی تک زندہ رکھا، اور ان کے رسالوں نے شاعروں کی ایک نسل تیار کی۔
ارے دیوانے ذرا چل کے انہیں دیکھ تو لے
مے کدوں میں ہے مزا شیخ پری خانوں کا
بت خدا ہوں کہ نہ ہوں ہے مگر اتنی توقیر
بت کدہ آج بھی کعبہ ہے مسلمانوں کا
چشم ساقی کی طرح ہے اثر انداز اے شیخ
بعد توبہ کے چھلکنا بھرے پیمانوں کا
چٹکیاں آپ نہ لیں مہندی لگے ہاتھوں سے
کام دیں گے نہ یہ ناخن کبھی پیکانوں کا
قحط جائے بھی مگر یہ نہیں جانے کے ریاضؔ
کہ مرے گھر ہے اجارہ مرے مہمانوں کا
پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھے
میرے لئے میخانے کا در کھول رہے تھے
میں دیر میں چپ دور سے منہ دیکھ رہا تھا
کس طرح برے بول یہ بت بول رہے تھے
کرتے تھے وہ بیٹھے ہوئے ناخن سے جدا گوشت
کہنے کو مرے دل کی گرہ کھول رہے تھے
صیاد نے کب ناوک بیداد لگایا
ہم اڑنے کو جب شاخ سے پر تول رہے تھے
اے آنکھ در اشک وہی نزع میں کام آئے
بن کر ترے دامن میں جو انمول رہے تھے
ہم بیٹھے تھے کس طرح تہہ شاخ فسردہ
گل ہنستے تھے مرغان چمن بول رہے تھے
شوخی سے قیامت کو وہ پاسنگ بنا کر
ہم کتنے ہیں باتوں میں ہمیں تول رہے تھے
تھے صبح کو وہ ساغر جم دست گدا میں
آلودہ مے شب کو جو کشکول رہے تھے
کچھ چپ سے ہیں اب حشر میں آنے سے کسی کے
بڑھ بڑھ کے ریاضؔ آج بہت بول رہے تھے
تھکا لے اور دور آسماں تک
پھر آخر گردش قسمت کہاں تک
بڑی اس دل کی بیتابی یہاں تک
ہمیں ہمیں ہم ہیں زمیں سے آسماں تک
دم وعدہ انہیں ہے بار ہاں تک
زباں تھک جائے جو اے بے زباں تک
مجھے پینا پڑے آخر وہ آنسو
جو بھر جاتے زمیں سے آسماں تک
کوئی سو بار اڑے سو بار بیٹھے
قفس سے یوں ہم آئے آشیاں تک
گلا بھی تھا کسی کا راز کوئی
کہ آ کر رہ گیا میری زباں تک