Contemporary · 1952–1994 · کراچی – اسلام آباد
پروین شاکر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ چوبیس برس کی عمر میں پہلا مجموعہ "خوشبو" چھپا اور اس نے اردو غزل کی زبان بدل دی — ایک عورت پہلی بار اپنی طرف سے محبت، تڑپ اور اپنی ہستی کی بات کہہ رہی تھی۔ پیشے سے سول افسر، بیالیس برس کی عمر میں سڑک حادثے میں انتقال سے پہلے انہوں نے پانچ مجموعے لکھے۔
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی
سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی
اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی
اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی
کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی
رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
شب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں
مٹا سکے گی اسے گرد ماہ و سال کہاں
کھنچی ہوئی ہے جو تصویر یار آنکھوں میں
بس ایک شب کی مسافت تھی اور اب تک ہے
مہ و نجوم کا سارا غبار آنکھوں میں
ہزار صاحب رخش صبا مزاج آئے
بسا ہوا ہے وہی شہ سوار آنکھوں میں
وہ ایک تھا پہ کیا اس کو جب تہہ تلوار
تو بٹ گیا وہی چہرہ ہزار آنکھوں میں
نم ہیں پلکیں تری اے موج ہوا رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ
روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں
چشم پوشی کے سلیقے تھے شکایات کے ساتھ
تجھ کو کھو کر بھی رہوں خلوت جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نے عجب مات کے ساتھ
نیند لاتا ہوا پھر آنکھ کو دکھ دیتا ہوا
تجربے دونوں ہیں وابستہ ترے ہات کے ساتھ
کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھا مجھ کو
دوست ہمدرد رہے کتنے مری ذات کے ساتھ
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
بچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسم
کئی رتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لوٹ آئے
سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم
پیام آیا ہے پھر ایک سرو قامت کا
مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم
وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے
مرے بدن کو ملا ہے چنار کا موسم