Classical · 1735–1830 · دہلی – آگرہ
ولی محمد، جو نظیر اکبرآبادی کے نام سے لکھتے تھے، آگرہ کے عظیم نظم گو شاعر تھے۔ درباری غزل سے منہ موڑ کر انہوں نے ہولی اور عید، روٹی اور پیسے، بنجارے اور تیراک پر لکھا — ایک روزمرہ کی انسانیت جو اُس عہد میں نایاب تھی۔ ان کا "بنجارا نامہ" اردو کی محبوب ترین نظموں میں ہے۔
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
ہر ایک مقام سے آگاہ ہے وہ سارا جہان
جسے دیا ہے خدا نے دماغ اور دل بھی
کچھ پاس تھے تو کچھ نہیں، کچھ آس تھے تو کچھ نہیں
بنجارا پن ہے زندگی، ہر شے مسافر کی طرح
دیکھی قلندروں کی طرح آنکھ کھول کر
دنیا کی گردشوں کو پھرا ہوں ٹہل کر
ہر صبح ایک نئی روشنی لے کے آتی ہے
ہر شام ایک دیا دل میں جلا کے جاتی ہے
محبت ہی وہ دولت ہے جو بانٹے سے بڑھتی ہے
یہ وہ دیپک ہے جس کی لو سدا آگے کو بڑھتی ہے