Classical · 1735–1830 · دہلی – آگرہ
ولی محمد، جو نظیر اکبرآبادی کے نام سے لکھتے تھے، آگرہ کے عظیم نظم گو شاعر تھے۔ درباری غزل سے منہ موڑ کر انہوں نے ہولی اور عید، روٹی اور پیسے، بنجارے اور تیراک پر لکھا — ایک روزمرہ کی انسانیت جو اُس عہد میں نایاب تھی۔ ان کا "بنجارا نامہ" اردو کی محبوب ترین نظموں میں ہے۔
جو اس انجمن میں ہیں بیٹھتے تو مزاج اس کے سے ہم کو واں
کبھی عجز ہے کبھی بیم ہے کبھی رسم ہے کبھی داب ہے
وہ ادھر سے جا کے جو آتا ہے اسے دونوں حال سے دل میں یاں
کبھی سوچ ہے کبھی فکر ہے کبھی غور ہے کبھی تاب ہے
جو وہ بعد بوسہ کے ناز سے ذرا جھڑکے ہے تو نظیرؔ کو
کبھی مصری ہے کبھی قند ہے کبھی شہد ہے کبھی راب ہے
لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے
اتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سے
فندقیں بزم میں دیکھ اس کے سر انگشتوں سے
رشتۂ ربط نے لی راہ کف دستوں سے
روبرو ہووے جو چشمان بتاں سے اے دل
ڈرتے رہنا ہی مناسب ہے سیہ مستوں سے
دست صیاد سے چھوٹے تو اچھل پے در پے
ورنہ کیا فائدہ اے آہوے دل جستوں سے
پیش جاتی نہیں ہرگز کوئی تدبیر نظیرؔ
کام جب آن کے پڑتا ہے زبردستوں سے
کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے اب
یعنی وہ شوخ ہم سے خفا بے سبب ہے اب
آہ و فغان و گریہ و اندوہ و درد و داغ
جو جنس عشق ہے وہ مرے پاس سب ہے اب
دیکھے سے جس کے غنچہ صفت گل ہو رشک ہے
ایسا تو اس جنم میں وہی غنچہ لب ہے اب
صبح فلک بھی جس کی تجلی سے ہو خجل
اس رشک ماہتاب سے اپنی وہ شب ہے اب
آئینہ ایک دم نہیں رکھتا ہے ہاتھ سے
ایسا وہ اپنے رخ کا تماشا طلب ہے اب
اس گل بدن کے وصل سے ہر دم نظیرؔ کو
سب سے زیادہ خلق میں عیش و طرب ہے اب
ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشم
دل ہے مرا جوں آئینہ حیراں ہمہ تن چشم
تا ایک نظر دیکھے تجھے اے مہ تاباں
رہتا ہے سدا مہر درخشاں ہمہ تن چشم
آنکھوں کو ملے تاکہ ترے پاؤں کے نیچے
ہر نقش قدم سے ہے بیاباں ہمہ تن چشم
دیوانگی میری کے تحیر میں شب و روز
ہے حلقۂ زنجیر سے زنداں ہمہ تن چشم
اس آئینہ رو کے ہے تصور میں نظیرؔ اب
حیرت زدہ نظارہ پریشاں ہمہ تن چشم
سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرض
اپنے کوچے کے جا پذیر کی عرض