Modern · 1928–2006 · خان پور، ہوشیارپور – لاہور
منیر نیازی نے ڈر، حیرت اور دیر کی شاعری رچی — خالی شہر، اچانک ہوائیں، وہ دستک جو دروازہ بند ہونے کے بعد آتی ہے۔ لاہور میں اردو اور پنجابی دونوں میں لکھتے ہوئے وہ تحریکوں اور منشوروں سے الگ رہے۔ ان کا لہجہ — آدھا قصہ، آدھا پیش گوئی — فوراً پہچانا جاتا ہے۔
ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروں
ایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروں
منزل شب جب طے کرنی ہے اپنے اکیلے دم سے ہی
کس کے لیے اس جگہ پہ رک کر دن اپنا برباد کروں
بہت قدیم کا نام ہے کوئی ابر و ہوا کے طوفاں میں
نام جو میں اب بھول چکا ہوں کیسے اس کو یاد کروں
جا کے سنوں آثار چمن میں سائیں سائیں شاخوں کی
خالی محل کے برجوں سے دیدار برق و باد کروں
شعر منیرؔ لکھوں میں اٹھ کر صحن سحر کے رنگوں میں
یا پھر کام یہ نظم جہاں کا شام ڈھلے کے بعد کروں
نواح وسعت میداں میں حیرانی بہت ہے
دلوں میں اس خرابی سے پریشانی بہت ہے
کہاں سے ہے کہاں تک ہے خبر اس کی نہیں ملتی
یہ دنیا اپنے پھیلاؤ میں انجانی بہت ہے
بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے
بسر جتنی ہوئی بے کار و بے منزل زمانے میں
مجھے اس زندگانی پر پشیمانی بہت ہے
نکل آتے ہیں رستے خود بہ خود جب کچھ نہ ہوتا ہو
کہ مشکل میں ہمیں خوابوں کی ارزانی بہت ہے
بہت رونق ہے بازاروں میں گلیوں اور محلوں میں
پر اس رونق سے شہر دل میں ویرانی بہت ہے
ساعت ہجراں ہے اب کیسے جہانوں میں رہوں
کن علاقوں میں بسوں میں کن مکانوں میں رہوں
ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں
علم ہے جو پاس میرے کس جگہ افشا کروں
یا ابد تک اس خبر کے رازدانوں میں رہوں
وصل کی شام سیہ اس سے پرے آبادیاں
خواب دائم ہے یہی میں جن زمانوں میں رہوں
یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں
خواب و خیال گل سے کدھر جائے آدمی
اک گلشن ہوا ہے جدھر جائے آدمی
دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی
دیکھے ہیں وہ نگر کہ ابھی تک ہوں خوف میں
وہ صورتیں ملی ہیں کہ ڈر جائے آدمی
یہ بحر ہست و بود ہے بے گوہر مراد
گہرائیوں میں اس کی اگر جائے آدمی