Modern · 1875–1951 · موہان، اناؤ – لکھنؤ
مولانا فضل الحسن، جو حسرت موہانی کے نام سے مشہور ہیں، ایک انقلابی، دستور ساز اسمبلی کے رکن اور نعرۂ "انقلاب زندہ باد" کے خالق تھے۔ پھر بھی ان کی غزلیں اردو میں سب سے نرم ہیں — بے تکلف، نغمہ ریز اور سیدھی۔ ان میں آزادی کی سیاست اور محبت کی شاعری ایک ہی عقیدت تھی۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
کھینچ لو اپنی نگاہوں کے فسانے حسرت
آج کچھ تیری طبیعت ہے اداسی کے قریب
مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی رہی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی رہی
نظرِ شوق بھی سہم سہم دلِ بے تاب بھی تھم تھم
نہ پوچھ عالمِ بے تابیِ دل آج رات تو بس تھم تھم
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام
ہے مشہور کہ حسرت کو ہے شب کا آرام
شوق وہ ہے کہ سحر تک نہیں سونے دیتا
دل کو سکونِ وصل میسر نہیں تو کیا
اس یادِ ہجر میں بھی مزہ ہے کبھی کبھی
وطن کی خاک بھی مجھ کو بہت عزیز رہی
اسی لیے تو محبت ہر ایک سے کی گئی