ضمير مغرب ہے تاجرانہ، ضمير مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، يہاں بدلتا نہيں زمانہ
کنار دريا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ
سکندري ہو، قلندري ہو، يہ سب طريقے ہيں ساحرانہ
حريف اپنا سمجھ رہے ہيں مجھے خدايان خانقاہي
انھيں يہ ڈر ہے کہ ميرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ
غلام قوموں کے علم و عرفاں کي ہے يہي رمز آشکارا
زميں اگر تنگ ہے تو کيا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ
خبر نہيں کيا ہے نام اس کا، فريبي کہ خود فريبي
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدير کا بہانہ
مري اسيري پہ شاخ نے يہ کہہ کے صياد کو رلايا
کہ ايسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشيانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا