چہ کافرانہ قمار حيات مي بازي
کہ با زمانہ بسازي بخود نمي سازي
دگر بمدرسہ ہائے حرم نمي بينم
جنيد و نگاہ غزالي و رازي
بحکم مفتي اعظم کہ فطرت ازليست
بدين صعوہ حرام است کار شہبازي
ہماں فقيہ ازل گفت جرہ شاہيں را
بآسماں گروي با زميں نہ پروازي
منم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئي ہا
ز بيم ايں کہ بسلطاں کنند غمازي
بدست ما نہ سمرقند و نے بخارا ايست
بگو ز فقيراں بہ ترک شيرازي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا