کھلا جب چمن ميں کتب خانہء
نہ کام آيا ملا کو علم کتابي
متانت شکن تھي ہوائے بہاراں
غزل خواں ہوا پيرک اندرابي
کہا لالہ آتشيں پيرہن نے
کہ اسرار جاں کي ہوں ميں بے حجابي
سمجھتا ہے جو خواب لحد کو
نہاں اس کي تعمير ميں ہے خرابي
نہيں زندگي سلسلہ روز و شب کا
نہيں زندگي مستي و نيم خوابي
حيات است در آتش خود تپيدن
خوش آں دم کہ ايں نکتہ را بازيابي
اگر ز آتش دل شرارے بگيري
تواں کرد زير فلک آفتابي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا