آج وہ کشمير ہے محکوم و مجبور و فقير
کل جسے اہل کہتے تھے ايران صغير
سينہء افلاک سے اٹھتي ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امير
کہہ رہا ہے داستاں بيدردي ايام کي
کوہ کے دامن ميں وہ خانہء دہقان پير
آہ! يہ قوم نجيب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دير گير؟
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا