پاني ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سيماب
مرغان تيري فضاؤں ميں ہيں بيتاب
اے وادي لولاب
گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
ديں بندئہ مومن کے ليے ہے يا خواب
اے وادي لولاب
ہيں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
ڈھيلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب
اے وادي لولاب
ملا کي نظر نور فراست سے ہے خالي
بے سوز ہے ميخانہء صوفي کي مے ناب
اے وادي لولاب
بيدار ہوں دل جس کي فغان سحري سے
اس قوم ميں مدت سے وہ درويش ہے ناياب
اے وادي لولاب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا