آتي ہے دم صبح صدا عرش بريں سے
!کھويا گيا کس طرح ترا ادراک
کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقيق
ہوتے نہيں کيوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
تو ظاہر و باطن کي خلافت کا سزاوار
کيا بھي ہوتا ہے غلام خس و خاشاک
مہر و مہ و انجم نہيں محکوم ترے کيوں
کيوں تري نگاہوں سے لرزتے نہيں افلاک
اب تک ہے رواں گرچہ لہو تيري رگوں ميں
نے گرمي افکار، نہ انديشہ بے باک
روشن تو وہ ہوتي ہے، جہاں بيں نہيں ہوتي
جس آنکھ کے پردوں ميں نہيں ہے نگہ پاک
باقي نہ رہي تيري وہ آئينہ ضميري
!اے کشتہء سلطاني و ملائي و پيري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا