اس دير کہن ميں ہيں غرض مند پجاري
رنجيدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہيں ياد
پوجا بھي ہے بے سود، نمازيں بھي ہيں بے سود
قسمت ہے غريبوں کي وہي نالہ و فرياد
ہيں گرچہ بلندي ميں عمارات فلک بوس
ہر شہر حقيقت ميں ہے ويرانہء آباد
تيشے کي کوئي گردش تقدير تو ديکھے
سيراب ہے پرويز، جگر تشنہ ہے فرہاد
يہ علم، يہ حکمت، يہ سياست، يہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکر ملوکانہ کي ايجاد
اللہ! ترا شکر کہ يہ خطہ پر سوز
!سوداگر يورپ کي غلامي سے ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا