کيا شے ہے، کس امروز کا فردا ہے قيامت
اے ميرے شبستاں کہن! کيا ہے قيامت؟
اے مردئہ صد سالہ! تجھے کيا نہيں معلوم؟
!ہر کا پوشيدہ تقاضا ہے قيامت
جس کا پوشيدہ تقاضا ہے قيامت
اس موت کے پھندے ميں گرفتار نہيں ميں
ہر چند کہ ہوں مردئہ صد سالہ وليکن
ظلمت کدہ خاک سے بيزار نہيں ميں
ہو روح پھر اک بار سوار بدن زار
ايسي ہے قيامت تو خريدار نہيں ميں
نے نصيب مار و کژدم، نے نصيب دام و دد
ہے فقط محکوم قوموں کے ليے مرگ ابد
بانگ اسرافيل ان کو زندہ کر سکتي نہيں
روح سے تھا زندگي ميں بھي تہي جن کا جسد
مر کے جي اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام
گرچہ ہر ذي روح کي منزل ہے آغوش لحد
آہ ، ظالم! تو جہاں ميں بندہ محکوم تھا
ميں نہ سمجھي تھي کہ ہے کيوں خاک ميري سوز
تيري ميت سے مري تاريکياں تاريک تر
تيري ميت سے زميں کا پردئہ ناموس چاک
الحذر، محکوم کي ميت سے سو بار الحذر
!اے سرافيل! اے خدائے کائنات! اے جان پاک
گرچہ برہم ہے قيامت سے نظام ہست و بود
ہيں اسي آشوب سے بے پردہ اسرار وجود
زلزلے سے کوہ و در اڑتے ہيں مانند سحاب
زلزلے سے واديوں ميں تازہ چشموں کي نمود
ہر نئي تعمير کو لازم ہے تخريب تمام
ہے اسي ميں مشکلات زندگاني کي کشود
آہ يہ مرگ دوام، آہ يہ رزم حيات
ختم بھي ہوگي کبھي کشمکش کائنات
عقل کو ملتي نہيں اپنے بتوں سے نجات
عارف و عامي تمام بندئہ لات و منات
خوار ہوا کس قدر آدم يزداں صفات
قلب و نظر پر گراں ايسے جہاں کا ثبات
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا