کے مقاصد کي کرتا ہے نگہباني
يا بندہ صحرائي يا مرد کہستاني
دنيا ميں محاسب ہے تہذيب فسوں گر کا
ہے اس کي فقيري ميں سرمايہ سلطاني
يہ و لطافت کيوں ؟ وہ قوت و شوکت کيوں
!بلبل چمنستاني ، شہباز بياباني
اے شيخ ! بہت اچھي مکتب کي فضا ، ليکن
بنتي ہے بياباں ميں فاروقي و سلماني
صديوں ميں کہيں پيدا ہوتا ہے حريف اس کا
تلوار ہے تيزي ميں صہبائے مسلماني
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا