وہ نہيں جو سرخ و زرد پہچانے
وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہيں
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا! يہ مقام انتہائے راہ نہيں
کھلے ہيں سب کے ليے غربيوں کے ميخانے
علوم تازہ کي سرمستياں گناہ نہيں
اسي سرور ميں پوشيدہ موت بھي ہے تري
ترے بدن ميں اگر سوز 'لاالہ' نہيں
سنيں گے ميري صداخانزاد گان کبير؟
!گليم پوش ہوں ميں صاحب کلاہ نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا