اس کي پھونک ديتي ہے برنا و پير کو
لاکھوں ميں ايک بھي ہو اگر يقيں
ہوتا ہے کوہ و دشت ميں پيدا کبھي کبھي
وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگيں
تو اپني سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
خالي رکھي ہے خامہ حق نے تري جبيں
يہ نيلگوں فضا جسے کہتے ہيں آسماں
ہمت ہو پرکشا تو حقيقت ميں کچھ نہيں
بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں
!زير پر آگيا تو يہي آسماں ، زميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا