رومي بدلے ، شامي بدلے، بدلا ہندستان
تو بھي اے فرزند کہستاں! اپني خودي پہچان
اپني خودي پہچان
!او غافل افغان
اچھا ، پاني وافر ، مٹي بھي زرخيز
جس نے اپنا کھيت نہ سينچا ، وہ کيسا دہقان
اپني خودي پہچان
!او غافل افغان
اونچي جس کي لہر نہيں ہے ، وہ کيسا درياے
جس کي ہوائيں تند نہيں ہيں ، وہ کيسا طوفان
اپني خودي پہچان
!او غافل افغان
ڈھونڈ کے اپني ميں جس نے پايا اپنا آپ
اس بندے کي دہقاني پر سلطاني قربان
اپني خودي پہچان
!او غافل افغان
تيري بے علمي نے رکھ لي بے علموں کي لاج
عالم فاضل بيچ رہے ہيں اپنا دين ايمان
اپني خودي پہچان
!او غافل افغان
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا